Saturday, 26 November 2011

گیدڑ کا شہر کا رخ

نہیں معلوم کہ ان کو عقل نہیں ہے یا یہ جان بوجھ کر خودکشی کر رہے ہیں!! کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے اور ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہے.
ہم میں بھلے جتنی بھی خامیاں ہوں، گھر میں... بھایئوں میں ناراضگیاں بھی ہوتی ہیں اور بھر کے لوگ بھی جلتی پر تیل ڈالنے کے  لئے ہر دم تیار رہتے ہیں مگر یس کا مطلب یہ نہیں کہ جب بھی کسی باہر والے کی مرضی ہو وہ آے اور گھر پر حملہ کریں... گھر سب کا سانجھا ہے اور سب اس کی حفاظت دل و جان سے کرتے ہیں اور اپنے گھر کی عزت اور آبرو پر آنچ نہیں آنے دیتے...
یہاں آج جو کچھ ہو رہا ہے... ہمارے ساتھ جو بھی کچھ ہو رہا ہے، ایسا نہیں کہ ہم خود کو اس سے مبّرا سمجھیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ ایک بھائی جو تھوڑا سا بزدل ہو، سب کو ایسا ہی سمجھا جائے... شیر کی کچھار میں آنا یا تو بہت بہادری ہے یا انتہا کی بیوقوفی... شیروں کو مار گرانا... ایسے ہے ممکن ہے کہ وہ حملہ نہ کریں...
آستین کے سانپ اسی کو کہتے ہیں... جتنا بھی ان کو گرم رکھو، جتنا بھی دودھ پلاؤ، کریگا وہی جو اس کی جبلت ہے... سو وہ یہی کرینگے... کبھی ہمارے دوست رہے ہی نہیں...
ہمارے بڑے کا فرمایا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا اور ہم تو مومن نہیں ہیں...
ہم نے بار بار ان پر بھروسہ کیا... ہم نے امن رکھنے کی کوشش کی اور اس کو بزدلی سے نتھی کیا گیا...
مگر بزدل وہ ہے جو ہمیشہ اس جگہ وار کرتا ہے جہاں اس کو یقین ہوتا ہے کہ جواباً مجھے مار نہیں کھانی پڑیگی... ویتنام، کوریا، عراق یا پھر افغانستان، یا شام، یا سوڈان... سارے ایسے ملک ہیں جو پہلے سے جنگوں سے تباہ حال اور معاشی طور پر ختم اور لٹے ہے ہیں...
کبھی ہمارے دوسرے بھائی ایران پر اور یا ہم پر حملہ کریں اور دیکھیں کہ کس حال میں نکلتے ہیں...
عقلمند بلا کے ہیں... وہاں پر کبھی جنگ نہیں لڑینگے جہاں انھیں معلوم ہو کہ ان کو نقصان ہو سکتا ہے... کیوں کہ یہ تو کھانا ہضم کرنے کے لیے مھم جوئی پر نکلتے ہیں اور کھیل ایسا جس میں زیادہ خواری نہ اٹھانی پڑے اور نام بھی ٹھیک ٹھاک بن جائے! اگر ایران یا پاکستان کو کچھ کہتے ہیں تو ان کو ڈر ہے کہ وہاں سے شدید مزاحمت ہوگی اور شاید ان کو لینے کے دینے پڑ جاہیں... جو وہ بہر صورت نہیں چاہیںگے... وہ تو جنگوں سے تباہ ملکوں میں نام بنا رہے ہیں اور مردوں کو مار کر مردانگی دیکھا رہے ہیں... کبھی مرد کا سامنا نہیں کیا... اور یہ بزدل، زنانیاں، پیزا، برگر کھانے والی نسل بندوق کی نالی کے اس پار کھڑے ہوں اور ان کی پتلونیں گھیلی نہ ہوں تو مانیں...
خیر... آج حملہ کر کے اچھا کیا... ان کی نیت بھی صاف ہو گیی اور کل کو کوئی واویلا بھی نہیں کر سکتا کہ ہم نے دہشت گردی جاری رکھی... ان کے دانت ٹوٹینگے اور ٹانگیں ہاتھوں میں اٹھاے بھاگیںگے تو ہمیں کوئی قصوروار نہیں کہلاےگا...
اور یہ اتنے بھی پیدل نہیں ہیں کہ پوری دنیا پہ سلطنت کا خواب دیکھنے والے صرف ایک چھوٹے سے ملک کے ایک انتہائی چھوٹے سے علاقے میں اپنا سب سب کچھ گنوا کے، منہ کالا، گدھے پڑ الٹے سوار دنیا کے چکر لگاتے پھریں... اگر عقلمند ہیں تو ہمارا یہ اشارہ کافی ہے.