Friday, 27 January 2012

اعتراف

زندگی ایسی بھی ہے... چپکے سے... خاموشی سے دبے پاؤں دور تلک نکل جاتی ہے... اور سمندر کے کنارے ریت کی مانند بےآواز ہتھیلیوں سے سرکتی جاتی ہے اور خبر بھی نہیں ہوتی کہ کتنے دن، کتنے مہینے، کتنے سال کتنی خاموشی سے اور کتنی تیزی سے گزرے...!! اور گزرے بھی سہی کہ محض ہمیں گمان ہے گزر جانے کا.
بیان یہ نہیں منشاء، یہ باتیں تو بہت بڑوں نے کی ہیں ہم نے سنی بھی ہیں اور پڑھی بھی... مدّعا کچھ اور ہے اور وہ یوں کہ ہم جو خستہ تنی اور جان بلبی کے راگ الاپنے والوں کو کہیں اتفاقاً بھی کوئی خوشی اور سرور کا لمحہ میّسر ہوا تو بجایے محظوظ ہونے کے ہم اس حقیقت کی نفی اور تردید کرتے ہوۓ وہ لمحہ گنوا دیتے ہیں اور ظلم یہ کہ ہمیں لطف بھی اسی کھو جانے میں ملتا ہے...
مدّعا یہ بھی نہیں تھا!
میں اپنے ذہن اور دل کی سالوں کی کشمکش میں آج تک یہ نہیں جان پایا کہ اصل میں کہاں ہوں گاہے دل جو کہتا ہے بجا گاہے جو دل کی سہی اور میں متواتر ایک ہی تصویر، عکس و پرتو ہوں...
اپنے حصار کھینچےہیں اور اپنی مرضی سے قید ہوں... ہاں مگر یہ کہ جو میرے فہم و ادراک کے پر تھے، نہیں ہیں... بازو ٹوٹے یا کسی نے کاٹے، معلوم نہیں...
ایک عجیب پرشور سناٹا ہے اور ایک بےمعنی شور جو روح میں محشر برپا کیے ہوے ہے اور اس روز کے محشر کو سال گزرے اور وہ سال جن کے گزر جانے کا علم بھی نہ ہو سکا...
بےبسی اور لاچاری ہے کہ ایک بھی دوست نہیں ہے اور کوئی بھی غمگسار نہیں ہے... دیکھنے میں میں روز سینکڑوں لوگوں سے ملتا ہوں، ہنستا ہوں، بات کرتا ہوں... مگر جو دل میں روز اول سے ہے... وہی ہے... ایک بھی نقطہ ادھر کا ادھر نہیں ہوتا اور باوجود کوشش کے میں آج تک صرف ناکام ہی رہا ہوں.
اپنے اردگرد جو ہوتا ہے... دیکھتا ہوں... پھر سوچتا ہوں... اور پھر غمگین ہوتا ہوں... شدّت سے...
یہ بھی حقیقت ہے کہ میں کچھ نہیں سمجھتا اور جتنا کچھ سمجھتا ہوں وہ کچھ یوں ہے کہ جو نہیں سمجھتا اس پر پردہ ڈالوں... کچھ میرے یار بھی اس پہ ناراض کہ میں خوامخواہ خود کو پرسرار بنا کے پیش کرتا ہوں... کچھ کا الزام ہے کہ میں جھوٹا، مکّار اور فریبی ہوں اور میں صرف اپنی شائستگی اور سیدھے انداز میں دھوکہ دہی کرتا ہوں... کچھ کا خیال ہے کہ انہوں نے مجھے اب پہچان لیا ہے اور وہ اب کبھی مجھ سے سلام دوا نہیں رکھیںگے... کچھ کو اعتراض تھا کہ میں بیکار میں الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہوں اور ان سے کوئی میرا نام لیوا نہیں ہوگا... اور کچھ کو میں اس لئے یاد رہتا ہوں کہ جب ان کے اندر نفرت اور غصّہ پوری دنیا کے خلاف جمع ہو جاتا ہے تو آتش فشان کا فت جانا ہی بہتر ہوتا ہے اور وہ آسانی سے مجھے بے عزت کر کے خود کو تسلی  دے سکتے ہیں کہ وہ کوئی گیے گزرے نہیں ہیں وہ آج بھی پوری دنیا کو سیدھا کر سکتے ہیں... میں "دنیا" ہوں... اور میں سیدھا نہیں ہوں...
جس کا جہاں تک علم ہے اور جس کی جہاں تک پہنچ ہے، وہیں تک ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ مجھے غلط "ثابت" کر دیں... جیسے میں ان سب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اور جیسے وہ میرے یار نہیں، دیرینہ دشمن ہیں... اور پھر جیسے میں نے کبھی ان سے کہا ہے کہ میں سہی ہوں یا غلط ہوں یا کچھ بھی...
میں سمجھتا نہیں ہوں... لوگوں کو تنگ کرتا ہوں... اداس کرتا ہوں... میں وہ نہیں جو ناچ کے،مجرا کر کے کسی کا دل بہلا سکے... میں تعلیم میں، کھیل میں، ذہن میں، دل میں، لیاقت میں، ظرافت میں، نشست و برخواست میں، سلام کلام میں کسی بھی چیز میں کچھ بھی نہیں ہوں... میں ایک مٹتی کا پتلا ہوں... مجھے آرام اور آسائش، خوب ساری عورتیں اور ان کی صحبت اور نشے میں مخمور، آرزؤں میں چور اور سکون کی زندگی اور طاقت اور زور کی خواہش اور اسی خواہش میں زندگی گزار دینے کا ارادہ...
میرے اندر سے تعفن کی بو آتی ہے... اور میں اتنا گندا ہوں اور اتنا گرا ہوا ہوں کہ خود کے اندر جھانک کے نہیں دیکھ سکتا...
میرا بیان یہ کہ میں گھوما بھی نہیں ہوں، پھرا بھی نہیں ہوں اور نہ ہی میری زندگی میں کچھ ایسے یادگار دن یا لمحے آیے ہیں کہ جن کی تصویریں تو میرے پاس محفوظ ہوتیں... میں تو کسی کا دوست بھی نہیں ہوں کہ کوئی مجھے یاد رکھے... میں تو مفلس بھی ہوں کہ اگر کچھ ہوتا تو میں سنبھال رکھتا...
میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے... میرے جسم، میرے ذہن، میرے دل، میری روح کا کچھ بھی متاع نہیں... ہاں ہے تو یہ کہ میں مقروض ہوں بہت یاروں کے وقت کا، ان کے احسانوں کا اور ان کے گھر والوں کا جنہوں نے انہیں میرے ساتھ رہنے دیا... اور میں خدا سے معافی کا خواستگار ہوں اور شرمندہ ہوں... جتنا خود پہ اتنا ہی اس حقیقت پر کہ خدا کی تخلیق میں تو کوئی نقص نہیں ہو سکتا... وہ خالق کامل ہے پر میں نے اس اعلیٰ شاہکار کو داغدار کیا...
میں شرمندہ ہوں اور زندہ بھی ہوں... اور یہ میری بےشرمی کی انتہا ہے...!!
ہم جیسے ازل کے یاس پرست ان لفظوں میں جو لطف پاتے ہیں... اوروں کو نہیں خبر... اور ہم اپنی پوری زندگی اسی لئے تباہ کر دیتے ہیں کہ کوئی ایسا ہی مضمون سامنے رکھ سکیں اور پھر آنی والی پشتوں کو ایک اور نیے مخمصے میں ڈال دیں کہ جو ہمارے پہلے والوں نے جو تھمایا تھا وہ ہم سے حل ہوا نہیں...
اسی طرح دنیا کا کاروبار چلتا رہے اور ہمیں تسلی ہو کہ چلو کچھ تو کیا اور تھوڑی دل کی بھڑاس بھی نکلے...
اب میں پھر سے وہی ہوں جو ہوں... یہ سب بھی لفظ بھی سارے دھوکہ ہیں، جھوٹ ہے... لفاظی ہے اور بیان ہے...
اس کا حاصل کچھ نہیں... ایک جھوٹا دلاسہ ہے جو وقتاً فوقتاً ہم خود کو دیتے رہتے ہیں...
اور وقت کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا کہ کب ساحل پر ریت ہتھیلی سے سرکتی ہی پھر اپنے اصل میں مل گئی... ہم تو تماشآیی ہیں اور تماشا چاہے وقت ہی کا کیوں نہ ہو... دیکھنا تو لازم ہے...