زمانے
کا دستور حقیقتاً ہی عجیب ہے!
تعجب
ہے، المیہ ہے!
جن
لوگوں کی بدولت دنیا میں "تحریک" رہی وہی لوگ اپنی تمام عمر ایک ہے رونا
روتے رہے کہ وہ جو بولتے ہیں کوئی نہیں سمجھتا.
دنیا
میں جتنی بھی تبدیلی آیئ ہے، اچھی یا بری، اس بحث میں نہیں پڑتے، مگر آیئ ہمیشہ ان
لوگوں کے باعث ہے جو عام ذہن سے تھوڑا بڑھ کر تھے یا جن میں کچھ بدل دینے کی ہمّت
تھی.
ہم
دیکھتے ہیں، روزانہ دیکھتے ہیں. اپنی آنکھوں کے سامنے تماشہ دیکھتے ہیں، وہی جس کا
ذکر غالب نے کیا تھا... ہوتا ہے
شب و روز تماشا میرے آگے.
دنیا
میں انقلاب آیا تو یا منفی قوّتیں کلیدی عنصر تھیں یا مثبت طاقتیں عوامل... مگر
عام شخص نے اور عام ذہن اپنے لحاظ سے وسیع ترین مطالعے اور گہرے مشاہدے کی
بنا پر زبردست تبصرے کیے اور تمام عمر اپنی بہترین سوچ کے ساتھ گزاری،
بہت
نے تو دنیا کو واشگاف الفاظ میں یہ بھی بتایا کہ اگر ان کا کہا نہ مانا تو وہ سب
تباہ ہو جاینگے، نیست و نابود ہوجاینگے...
اور
جنہوں نے مانا، یہ وہ ہے جن کو ہم نہیں جانتے.
چنگیز
خان ہو یا نیوٹن، دونوں نے ایک کام کیا... تبدیلی دی... تحریک دی... دنیا آگے
بڑھی. چنگیز کی بربریت ہی سہی، دنیا نے جنگ دیکھی. لاکھوں نے مظالم سہے، مرے، فنا
ہوے، ان کا کوئی نام لینے والا نہیں.
لیکن
چنگیز کی فوجی درجہ بندی اور فوجی نظام اور عسکری ترتیب سازی بھی کمال کی تھی.
تاریخ پر نظر ڈال سکتے ہیں.
چنگیز
نے تباہی دی... لیکن ان لوگوں کو، جن کو عقل تھی، عقل بھی دی. اب بےعقل کو تو اگر
پیالے سے منہ میں انڈیل بھی دیا جائے تو قے کر دے... نیوٹن صاحب نے کچھ اور دیا
اور اس کے بارے میں آپ ضرور جانتے ہیں.
دونوں
اب نہیں ہیں... دونوں نجانے کہاں ہیں. دونوں جانے کیوں آے تھے... الگ سوال ہیں.
مگر دونوں نے دنیا بدل دی.
یہ
دونوں اور ان جیسے ہزاروں... لاکھوں اور ہیں... اگر نہیں ہوتے تو آج بھی ہم کسی
غار کے دہانے بیٹھے کجھلی کر رہے ہوتے یا ایک دوسرے کے جویں نکال رہے ہوتے یا کہیں
اکڑوں بیٹھے کسی مردہ کو سونگھ رہے ہوتے... جو بھی کرتے کم سے ہم یہ لکھ نہیں رہے
ہوتے اور آپ یہ پڑھ نہیں رہے ہوتے.
زمانے
کا دستور عجب ہے...
ہم
روزانہ دیکھتے ہیں... بیچارے بول رہے ہوتے ہیں... بول بول کے انھیں بھوک لگ جاتی
ہے اور بول بول کے ہے نیند آتی اور صبح بول کے ہے اٹھتے ہیں.... اور آپ ذرا سر
تجربہ کیجئے، گھڑی پہ یں کو دو منٹ بٹھائے اور ایک بات شروع کیجئے، دو منٹ سے
زیادہ سنتا ہے تو بھلا آدمی ہے، ایسی بات سنتا ہے جس میں ان کا بھلا ہے پھر بھی
بھلا آدمی ہے... مروتآ سنتا ہے پھر بھی بھلا آدمی ہے، ولی ہے ... اور آپ تو ٹوکتا
بھی نہیں، فرشتہ ہے!!
ہاں!
ایک لطیفہ ہے کہ ایک صاحب آگے اور دوسرے پیچھے بھاگے جا رہے ہیں. کچھ لوگوں نے
پیچھے بھاگنے والے کو روکا اور خیریت کا پوچھا کہ یہ آپ دونوں دوڑ کیوں رہے ہیں...
مظلوم نے جواب دیا، ظلم اپنی دو غزلیں سنا چکا ہے اور میری نہیں اب سنتا.
اور
مشهور لطیفہ ہے کہ شاعر اپنا سنانے کے لئے دوست سے پوچھتے ہیں، ہاں بھئ، کوئی نیا
کلام ارشاد کیجیے ناں!
تو
بہت سے نامور ایسے ہیں جو بولتے کم ہیں اور ان سے بہت نامور وہ ہیں جو بولتے بہت
ہے کم ہیں صرف کام کی باتیں بتاتے ہیں، یہ الگ ہے کہ کام کی بات بتانے میں گھنٹے،
دیں، مہینے، سال تو لگ ہے جاتے ہیں.
ہمارے
ملنے ملانے کے حلقے میں ایک صاحب ہیں جن کو صرف دو چیزیں نہیں معلوم، ایک وو چڑیا
کے گھونسلے میں انڈے اور دوسرا آپ اور ہم وہ...!! باقی آپ پوچھ لیجئے،
اس گھریلو ٹوٹکے سے لیکر جس کو استمعال کر کے بانجھ عورت کو کوکھ ہری کیا
رنگ برنگی ہو جائے. دنیا کی خفیہ ترین قوتوں کے اس سے بھی زیادہ خفیہ راز جس
میں ان کے صدیوں کے لیے کارآمد مقاصد شامل ہیں اور جن پہ وہ دولت پانی کی تارہا
بھی رہے ہیں... آپ پچ لیجیے... وہ جھٹ آپ کو بتا دینگے کہ یہ معمہ کیا ہے...
ایسے
بھی صاحبان سے ہمیں فیض حاصل ہوتا ہے جو بصد شکر بولتے ہیں کہ وہ خالق کی دین کے
اھل نہیں تھے پرر دان دیا گیا... ان کو جب آخر میں معاملہ کچھ الجھا نظر آجاتا ہے
اور جن نقطوں کو یہ صاحبان اپنے علم علیم اور عقل سلیم سے سلجھا نہیں پاتے تو آخر
میں گتھی سلجھانے کے ایک بہت ہی آساں حل ان کی جیب میں ہوتا ہے... "بھیئ، اس
میں یہودیوں کی سازش ہے!" یہودیوں کا ہی سہی، کسی کو تو مانتے ہیں جو ان کی عقل رسا کو مات دے
جائے... تاویل یہ ایسے لوگ شیطان کے پیرو ہیں اور ان کو شیطان پڑھاتا ہے...
ہم
خالق کے بہت شکرگزار کہ شیطان بھی
بھلے کے لئے پیدا کیا....
زمانے
کے دستور نرالا ہے... جو ان کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر، دنیا تج کر، ان کا، ان
بچوں کے مستقبل کی خاطر جو بھی کرتے ہیں... زمانہ پہلا سوال لازمی، باقی میں سے چھ
کے حساب سے مذاق تو اڑاتا ہے ہے... اور افسوس بھی نہیں ہوتا... اس سے بڑھ کر ظلم
یہ کہ ان کو معلوم بھی نہیں کہ یہ اتنی حقارت سے کیوں دیکھتے ہیں... اس میں بھی
بہت سے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں. ایک وہ جو ابو جہل اور ابو لھب کا حساب کتاب
تھا، دوسرا وو جو فرعون، نمرود،شداد، ہامن کا تھا... یا وہ جو کسی کا نہیں تھا.
نیی
چیز قبول کرنے میں اور پرانی چھوڑنے میں دقت ہوتی ہے.
انسانی
نفسیات اور انسان خود ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے... اور انسان کا مطالعہ بہترین شے
ہے...
ہم
نے اکثر لوگوں سے ایسا کروایا ہے... معذرت، کہ دھوکہ دہی تھی پر جب بھی کسی بدیسی
لوازمات کے گرویدہ کو پایا تو ضرور کہا، "ارے!! آپ اب تک یہ کر رہے ہیں!!؟
کیا کر رہے ہیں؟ ہنسیں گے آپ پہ...!"
ششدر،
پریشان، آزردہ پوچھتے، کیا کریں... ہم کوئی لال نیلا پیلا کچھ بتا دیتے... اگلے دیں
صاحب نوٹنکی والا مداری زیادہ لگتے! اب یوں بھی نہیں کہ ہمیں زیافہ علم تھا. یوں
تھا کہ ان کو نیند نہیں آتی تھی کہ کہیں ہم نے سچ نہ کہا ہو... اور یہ سچ نہ ہو
جائے! حفظ ماتقدم!
ہمارے
ایک بہت ہے عزیز دوست ہیں، ایک صاحب ان کے ساتھ آتے جاتے رہتے تھے... دونوں ایک
جگہ کام کرتے تھے تو ملنا ملانا دونوں کا آپس میں زیادہ تھا... ہمارے دوست جب بھی
آتے وہ صاحب بھی تشریف لے آتے... خرابی ان میں یہ تھی کہ ابھی ہم بیٹھتے تھے، کہ
ان کو ایک تصویر آویزاں نظر آجاتی تھی اور ساتھ ہے اس میں مصّور کی خط کھینچنے کی
کمزوری بھی اور پھر فن مسووری پر ایک سیر حاصل بحث! اگلی بار تشریف لاتے تو ان کو
ایک گلدان نظر آجاتا تحت اور اس سے اگلی بار ان کو دروازے پر صنع کاری درست نہیں
لگتی تھی. اب ہم میزبان، مرّوت میں چپ سادھے اور ہمارا دوست منہ کھولے سنتے... ایک
دن ہم نے از رہ اطمینان پوچھا کہ صاحب تو بھلا کے فنکار ہونگے... فرمایا، نہیں! یہ
تو جب میں نقص نکالتا ہوں تو سرور محسوس ہوتا ہے... کوئی تو یہ کام بھی کرے...!!ہم
نے کہا، جی! بالکل!!
ایک
فلسفی گوانڈی ہیں. فلسفی یوں نہیں کہ فلسفہ پڑھا ہے، یوں کہ بیروزگار ہیں اور گھر
پہ بیٹھے ہو گئے ہیں. ایک وقت میں روز شام کو گھنٹی بجھتی تھی... پوچھتے کون...
بولتے ہم! دروازہ کھلتا. پھر رات گئے تک ارسطو کی واہیات کو درست کرنے اور افلاطون
کی بے پرکیوں کو ترتیب دینے میں صاحب چست اور ہم بھی ہاں میں چست، سشت کوئی نہیں!
ایک دفع ہم نے پوچھا کہ آپ کو تو ہم بھلا کے عقل والے لگتے ہونگے، تبھی تو ہمیں
یوں سناتے ہیں... فرمایا... نہیں!! تم سمجھتے نہیں ہو پر ایک بات تیری بہت اچھی ہے
کہ تم میں سمجھ جانے کی پیاس ہے!
ہم
خود اتنے بولتے ہیں کہ دوست یار تنگ آجاتے ہیں اور ہماری باتیں ختم نہیں ہوتیں...
اکثر یار تو فارغ وقت میں کترا کے نکل جاتے ہیں.
زمانہ
عجب ہے... اتنے لوگ ہیں... اتنے زیادہ لوگ ہیں... کر رہے ہیں... بھگت رہے ہیں...
ہم آپ کیلیے وہ کر رہے ہیں جو ہمارا نہیں ہے، آپ ہمیں دکھانے کے لیے وہ جو آپ کا
نہیں ہے... اور کل ملا کے ہم اکٹھے وہ کر رہے ہیں جو آپ کا بھی نہیں ہے اور ہمارا
بھی نہیں ہے! اگر ہم وہ کریں جو ہمارا ہے تو آپ کو اس لیے گوارہ نہ ہو گا کہ فلاں
کو نہ ہوگا اور ہمے آپ کا کہ فلاں کو... اب ریاضی کی کتاب لینگے اور یس بدبخت فلاں
کو معلوم کرینگے!
زمانہ
عجب ہے... جیتنے بھی صاحبان سیاس ہیں دیکھیں تو کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ کرینگے وہ
کرینگے... ان کو زمام مملکت ہاتھ اجے تو خچر کو براق بنا دینگے... ہم مانتے ہیں.
سب ہی خیر کے کام میں کولھو کے بیل ہیں جتے رہیں... تیل برابر ایگا... مگر
خدانخواستہ کہیں کسی ایک صاحب کو قید ہی، علالت ہی، یا خدا نہ کرے دنیا سے اٹھ
گئے... تو قسم کھاتے ہیں ہیں کہ وہ ہے آخری چشم و چراغ ہیں اور ان کے بعد چراغوں
میں روشنی نہ رہی اور گھپ اندھیرا سب کا مقدّر! بجز یہ کہ بجا فرماتے ہیں! ہم کو
کونسا کون رکھتا ہے! ہاں مگر جو اپنی زبان سے بولتے ہیں... ان کو خبر ہے کہ ان کے
بعد کوئی نام لیوا بھی نہ ہوگا... مگر ہمارا تو خیر ہے اپنا وقت برباد کے جا رہے
ہیں... ہم کونسا کہتے ہیں کہ سوچ اور نظریہ نہیں مرتے... انسان پتھر ہو جاتا ہے...
سمجھتے ہیں! یہ نہیں کہ نہیں کہ نہیں سمجھتے بس تھوڑا زیادہ سمجھتے ہیں اور اتنا
ہم نہیں سمجھتے.... تبھی تو اختلاف ہے... ورنہ تو ان کی جگہ ہم ہوتے!
ہماری
ایک دوست محترمہ ہیں... جن کو شروع ایک ہی اعتراض ہے... اور وہ بجا بھی ہے... ہم
سے عمل نہ ہوا تبھی تو اس جدید دور جس میں مواصلات کہاں سے کہاں پہنچ گیئیں ہم
ہنوز کنوارے ہے ہیں... اعترض بجا تھا اور ہے اور رہیگا... فرماتی ہیں... دنیا کو
دکھانے کو ہاتھی والا نظام چلاو... اس ملعون چوپاے والا نہیں... پیٹ میں کون
جھانکتا ہے... اور اتنی عربی انھیں آتی ہے کہ چڑا سکیں... الناس باالباس!
ہم
نے مانا کہ شرافت کے اصول و ضوابط ہیں جو بہرطور ہونے چاہیئں... مگر بناؤ سنگھار
کریں تو ناصر صاحب نے کیا فرمایا ہے!؟
زمانہ
بھی عجیب ہے... ان پی ہنستا ہے جن کو ان کے بچے درسی کتب میں پڑھتے ہیں...
ہمیں
معلوم ہے... تھامس ایڈیسن کون تھا، اس نے کیا کیا تھا... ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس
کا وہ استاد کہاں گیا جو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی ماں کے پاس لایا تھا کہ وہ انھیں
پھر مدرسے نہ بھیجے... یہ بھی اگر اس استاد کا ذکر ہوا تو آپ جانتے ہیں کیسے...!
یا وہ لوگ جو ان پہ ہنسے تھے، ان کا مذاق اڑایا تھا!