Friday, 27 January 2012

اعتراف

زندگی ایسی بھی ہے... چپکے سے... خاموشی سے دبے پاؤں دور تلک نکل جاتی ہے... اور سمندر کے کنارے ریت کی مانند بےآواز ہتھیلیوں سے سرکتی جاتی ہے اور خبر بھی نہیں ہوتی کہ کتنے دن، کتنے مہینے، کتنے سال کتنی خاموشی سے اور کتنی تیزی سے گزرے...!! اور گزرے بھی سہی کہ محض ہمیں گمان ہے گزر جانے کا.
بیان یہ نہیں منشاء، یہ باتیں تو بہت بڑوں نے کی ہیں ہم نے سنی بھی ہیں اور پڑھی بھی... مدّعا کچھ اور ہے اور وہ یوں کہ ہم جو خستہ تنی اور جان بلبی کے راگ الاپنے والوں کو کہیں اتفاقاً بھی کوئی خوشی اور سرور کا لمحہ میّسر ہوا تو بجایے محظوظ ہونے کے ہم اس حقیقت کی نفی اور تردید کرتے ہوۓ وہ لمحہ گنوا دیتے ہیں اور ظلم یہ کہ ہمیں لطف بھی اسی کھو جانے میں ملتا ہے...
مدّعا یہ بھی نہیں تھا!
میں اپنے ذہن اور دل کی سالوں کی کشمکش میں آج تک یہ نہیں جان پایا کہ اصل میں کہاں ہوں گاہے دل جو کہتا ہے بجا گاہے جو دل کی سہی اور میں متواتر ایک ہی تصویر، عکس و پرتو ہوں...
اپنے حصار کھینچےہیں اور اپنی مرضی سے قید ہوں... ہاں مگر یہ کہ جو میرے فہم و ادراک کے پر تھے، نہیں ہیں... بازو ٹوٹے یا کسی نے کاٹے، معلوم نہیں...
ایک عجیب پرشور سناٹا ہے اور ایک بےمعنی شور جو روح میں محشر برپا کیے ہوے ہے اور اس روز کے محشر کو سال گزرے اور وہ سال جن کے گزر جانے کا علم بھی نہ ہو سکا...
بےبسی اور لاچاری ہے کہ ایک بھی دوست نہیں ہے اور کوئی بھی غمگسار نہیں ہے... دیکھنے میں میں روز سینکڑوں لوگوں سے ملتا ہوں، ہنستا ہوں، بات کرتا ہوں... مگر جو دل میں روز اول سے ہے... وہی ہے... ایک بھی نقطہ ادھر کا ادھر نہیں ہوتا اور باوجود کوشش کے میں آج تک صرف ناکام ہی رہا ہوں.
اپنے اردگرد جو ہوتا ہے... دیکھتا ہوں... پھر سوچتا ہوں... اور پھر غمگین ہوتا ہوں... شدّت سے...
یہ بھی حقیقت ہے کہ میں کچھ نہیں سمجھتا اور جتنا کچھ سمجھتا ہوں وہ کچھ یوں ہے کہ جو نہیں سمجھتا اس پر پردہ ڈالوں... کچھ میرے یار بھی اس پہ ناراض کہ میں خوامخواہ خود کو پرسرار بنا کے پیش کرتا ہوں... کچھ کا الزام ہے کہ میں جھوٹا، مکّار اور فریبی ہوں اور میں صرف اپنی شائستگی اور سیدھے انداز میں دھوکہ دہی کرتا ہوں... کچھ کا خیال ہے کہ انہوں نے مجھے اب پہچان لیا ہے اور وہ اب کبھی مجھ سے سلام دوا نہیں رکھیںگے... کچھ کو اعتراض تھا کہ میں بیکار میں الٹی سیدھی حرکتیں کرتا ہوں اور ان سے کوئی میرا نام لیوا نہیں ہوگا... اور کچھ کو میں اس لئے یاد رہتا ہوں کہ جب ان کے اندر نفرت اور غصّہ پوری دنیا کے خلاف جمع ہو جاتا ہے تو آتش فشان کا فت جانا ہی بہتر ہوتا ہے اور وہ آسانی سے مجھے بے عزت کر کے خود کو تسلی  دے سکتے ہیں کہ وہ کوئی گیے گزرے نہیں ہیں وہ آج بھی پوری دنیا کو سیدھا کر سکتے ہیں... میں "دنیا" ہوں... اور میں سیدھا نہیں ہوں...
جس کا جہاں تک علم ہے اور جس کی جہاں تک پہنچ ہے، وہیں تک ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں کہ مجھے غلط "ثابت" کر دیں... جیسے میں ان سب کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں اور جیسے وہ میرے یار نہیں، دیرینہ دشمن ہیں... اور پھر جیسے میں نے کبھی ان سے کہا ہے کہ میں سہی ہوں یا غلط ہوں یا کچھ بھی...
میں سمجھتا نہیں ہوں... لوگوں کو تنگ کرتا ہوں... اداس کرتا ہوں... میں وہ نہیں جو ناچ کے،مجرا کر کے کسی کا دل بہلا سکے... میں تعلیم میں، کھیل میں، ذہن میں، دل میں، لیاقت میں، ظرافت میں، نشست و برخواست میں، سلام کلام میں کسی بھی چیز میں کچھ بھی نہیں ہوں... میں ایک مٹتی کا پتلا ہوں... مجھے آرام اور آسائش، خوب ساری عورتیں اور ان کی صحبت اور نشے میں مخمور، آرزؤں میں چور اور سکون کی زندگی اور طاقت اور زور کی خواہش اور اسی خواہش میں زندگی گزار دینے کا ارادہ...
میرے اندر سے تعفن کی بو آتی ہے... اور میں اتنا گندا ہوں اور اتنا گرا ہوا ہوں کہ خود کے اندر جھانک کے نہیں دیکھ سکتا...
میرا بیان یہ کہ میں گھوما بھی نہیں ہوں، پھرا بھی نہیں ہوں اور نہ ہی میری زندگی میں کچھ ایسے یادگار دن یا لمحے آیے ہیں کہ جن کی تصویریں تو میرے پاس محفوظ ہوتیں... میں تو کسی کا دوست بھی نہیں ہوں کہ کوئی مجھے یاد رکھے... میں تو مفلس بھی ہوں کہ اگر کچھ ہوتا تو میں سنبھال رکھتا...
میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے... میرے جسم، میرے ذہن، میرے دل، میری روح کا کچھ بھی متاع نہیں... ہاں ہے تو یہ کہ میں مقروض ہوں بہت یاروں کے وقت کا، ان کے احسانوں کا اور ان کے گھر والوں کا جنہوں نے انہیں میرے ساتھ رہنے دیا... اور میں خدا سے معافی کا خواستگار ہوں اور شرمندہ ہوں... جتنا خود پہ اتنا ہی اس حقیقت پر کہ خدا کی تخلیق میں تو کوئی نقص نہیں ہو سکتا... وہ خالق کامل ہے پر میں نے اس اعلیٰ شاہکار کو داغدار کیا...
میں شرمندہ ہوں اور زندہ بھی ہوں... اور یہ میری بےشرمی کی انتہا ہے...!!
ہم جیسے ازل کے یاس پرست ان لفظوں میں جو لطف پاتے ہیں... اوروں کو نہیں خبر... اور ہم اپنی پوری زندگی اسی لئے تباہ کر دیتے ہیں کہ کوئی ایسا ہی مضمون سامنے رکھ سکیں اور پھر آنی والی پشتوں کو ایک اور نیے مخمصے میں ڈال دیں کہ جو ہمارے پہلے والوں نے جو تھمایا تھا وہ ہم سے حل ہوا نہیں...
اسی طرح دنیا کا کاروبار چلتا رہے اور ہمیں تسلی ہو کہ چلو کچھ تو کیا اور تھوڑی دل کی بھڑاس بھی نکلے...
اب میں پھر سے وہی ہوں جو ہوں... یہ سب بھی لفظ بھی سارے دھوکہ ہیں، جھوٹ ہے... لفاظی ہے اور بیان ہے...
اس کا حاصل کچھ نہیں... ایک جھوٹا دلاسہ ہے جو وقتاً فوقتاً ہم خود کو دیتے رہتے ہیں...
اور وقت کا کوئی احساس ہی نہیں ہوتا کہ کب ساحل پر ریت ہتھیلی سے سرکتی ہی پھر اپنے اصل میں مل گئی... ہم تو تماشآیی ہیں اور تماشا چاہے وقت ہی کا کیوں نہ ہو... دیکھنا تو لازم ہے...

Saturday, 26 November 2011

گیدڑ کا شہر کا رخ

نہیں معلوم کہ ان کو عقل نہیں ہے یا یہ جان بوجھ کر خودکشی کر رہے ہیں!! کہتے ہیں کہ جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو شہر کا رخ کرتا ہے اور ان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہے.
ہم میں بھلے جتنی بھی خامیاں ہوں، گھر میں... بھایئوں میں ناراضگیاں بھی ہوتی ہیں اور بھر کے لوگ بھی جلتی پر تیل ڈالنے کے  لئے ہر دم تیار رہتے ہیں مگر یس کا مطلب یہ نہیں کہ جب بھی کسی باہر والے کی مرضی ہو وہ آے اور گھر پر حملہ کریں... گھر سب کا سانجھا ہے اور سب اس کی حفاظت دل و جان سے کرتے ہیں اور اپنے گھر کی عزت اور آبرو پر آنچ نہیں آنے دیتے...
یہاں آج جو کچھ ہو رہا ہے... ہمارے ساتھ جو بھی کچھ ہو رہا ہے، ایسا نہیں کہ ہم خود کو اس سے مبّرا سمجھیں مگر ایسا بھی نہیں ہے کہ ایک بھائی جو تھوڑا سا بزدل ہو، سب کو ایسا ہی سمجھا جائے... شیر کی کچھار میں آنا یا تو بہت بہادری ہے یا انتہا کی بیوقوفی... شیروں کو مار گرانا... ایسے ہے ممکن ہے کہ وہ حملہ نہ کریں...
آستین کے سانپ اسی کو کہتے ہیں... جتنا بھی ان کو گرم رکھو، جتنا بھی دودھ پلاؤ، کریگا وہی جو اس کی جبلت ہے... سو وہ یہی کرینگے... کبھی ہمارے دوست رہے ہی نہیں...
ہمارے بڑے کا فرمایا ہے کہ مومن ایک سوراخ سے دو مرتبہ نہیں ڈسا جاتا اور ہم تو مومن نہیں ہیں...
ہم نے بار بار ان پر بھروسہ کیا... ہم نے امن رکھنے کی کوشش کی اور اس کو بزدلی سے نتھی کیا گیا...
مگر بزدل وہ ہے جو ہمیشہ اس جگہ وار کرتا ہے جہاں اس کو یقین ہوتا ہے کہ جواباً مجھے مار نہیں کھانی پڑیگی... ویتنام، کوریا، عراق یا پھر افغانستان، یا شام، یا سوڈان... سارے ایسے ملک ہیں جو پہلے سے جنگوں سے تباہ حال اور معاشی طور پر ختم اور لٹے ہے ہیں...
کبھی ہمارے دوسرے بھائی ایران پر اور یا ہم پر حملہ کریں اور دیکھیں کہ کس حال میں نکلتے ہیں...
عقلمند بلا کے ہیں... وہاں پر کبھی جنگ نہیں لڑینگے جہاں انھیں معلوم ہو کہ ان کو نقصان ہو سکتا ہے... کیوں کہ یہ تو کھانا ہضم کرنے کے لیے مھم جوئی پر نکلتے ہیں اور کھیل ایسا جس میں زیادہ خواری نہ اٹھانی پڑے اور نام بھی ٹھیک ٹھاک بن جائے! اگر ایران یا پاکستان کو کچھ کہتے ہیں تو ان کو ڈر ہے کہ وہاں سے شدید مزاحمت ہوگی اور شاید ان کو لینے کے دینے پڑ جاہیں... جو وہ بہر صورت نہیں چاہیںگے... وہ تو جنگوں سے تباہ ملکوں میں نام بنا رہے ہیں اور مردوں کو مار کر مردانگی دیکھا رہے ہیں... کبھی مرد کا سامنا نہیں کیا... اور یہ بزدل، زنانیاں، پیزا، برگر کھانے والی نسل بندوق کی نالی کے اس پار کھڑے ہوں اور ان کی پتلونیں گھیلی نہ ہوں تو مانیں...
خیر... آج حملہ کر کے اچھا کیا... ان کی نیت بھی صاف ہو گیی اور کل کو کوئی واویلا بھی نہیں کر سکتا کہ ہم نے دہشت گردی جاری رکھی... ان کے دانت ٹوٹینگے اور ٹانگیں ہاتھوں میں اٹھاے بھاگیںگے تو ہمیں کوئی قصوروار نہیں کہلاےگا...
اور یہ اتنے بھی پیدل نہیں ہیں کہ پوری دنیا پہ سلطنت کا خواب دیکھنے والے صرف ایک چھوٹے سے ملک کے ایک انتہائی چھوٹے سے علاقے میں اپنا سب سب کچھ گنوا کے، منہ کالا، گدھے پڑ الٹے سوار دنیا کے چکر لگاتے پھریں... اگر عقلمند ہیں تو ہمارا یہ اشارہ کافی ہے.


Monday, 24 October 2011

Things More To Say...

Days back, when was a kid, I had seen a cartoon telling about the funny things we do...
The captions were: we kill life on earth and search for it on mars.
This has been the real tragedy of mankind.
We have killed much men in wars but we still are searching for the things that would help us get rid of diseases.
The powers, advanced in science and technology and they launch missions and put trillions of dollars in searching water on other planets meanwhile they cannot stop killing innocent men and women and children for no good reasons. They are the peacemakers and they will bring peace to the world no matter what happens.
This has been so pathetic that a man in Afghanistan dies and vanishes a man in Iraq but the search of bloody fossils on Mars is a big news and that can give a clue of life or a frozen lake there tells us there was "life", "once upon a time..." "there was a man in Afghanistan, "once upon a time...."
What the fuck!!
They can do anything they want and they will do because they have the power to do something or to stop others doing something. Why would they be so curious about finding the clues about life on Mars while putting life on fire on the Earth. Sheer double standards!!
And they do know it.
The fact is that they are so in love with their own great selves that they cannot see anybody else and anybody else, poor, hungry and dirty and ill-mannered disgust them, so much, that even thousands of miles away they cannot sit with peace and let their business be business.
they send puppies from a war-torn country safe home but they cannot leave children to live. Puppies are more important than men! Probably the relationship!
I am no one and I will be no one because I had to be no one!
I can get killed and can get disappeared because I talk against the modern values and I can be a threat to the humanity because I oppose the search of life on Mars and I am against the life of those puppies, send by the kind-hearted men to their country.
But the point is, why would they do so much opposite to one another things? Why can not they give food to poor Africans from the money the waste on researching Oxygen on Mars, why can they not stop wasting money on killing the Afghans and launch greater missions leaving for searching Oxygen on Venus, Jupiter and Saturn? Why can they only kill? Why can they only search for things they can live without?
Why can they not just sit at home?
I am Sleepy...

Friday, 21 October 2011

Fuck You!! Bad English Version And High HI!


All that is set is set and all that’s been said is said!!
There’s nothing more that we could add and there’s nothing we can ever subtract.
If you call me fundamentalist for this vital law, I am!
And if you are not, you’re a bloody scavenger then!
You didn’t accept Che Guevara, you didn’t accept Mandela!! Why would you accept!?
You are a bloody coward! Only a coward is the most cruel man on the planet and when a coward had power… they are the most violent and aggressive ones! You subdued people by force and you did anything you wanted… And what pity, you are afraid of nothing and your personal insecurities and your complexes are fucking the entire world. It is just that you cannot face you! You are scared of your own self and to keep yourself protected and covered you shout and yell at the people around you. You can do it because you fathers have left many things for that our grandfathers had for their sons and that they wasted for their luxuries. Now you are doing the same… You get me? This is eternal cycle… Up and… down!!
You do not leave me alone to keep my business and this is your only business. You are pulling everyone down because you don’t have the guts to climb up! You are such a pathetic shyte-head and poor dick!!
Fuck you! And Fuck you even more!!
You let the entire world blame us because every slut is loud! And you are just proving yourself that!
I am not scared of you, you kill us, shoot us, burry us…. Kill our entire race! But we have no race! We will rise in you!! Your blood will be saying what we say now!! They will do what we do….!! What will you do then? Kill your own sons!!?? I know you can do that too because you are so ill that your ill cannot be cured! You are a bloody psycho!! And the fear is within you!! I am all busy doing my things!! It’s you who is making problems!! Snake eats the eggs. You kill your sons!!
An asshole is the one who wants to get into a fight anyway… and if they don’t get anybody they bite on their own wrists… I can see you chewing on your flesh!
Delete my post, kill me for that! You can do everything!!You have your power and mine left yet!!
You know I am writing in your language… But the words are mine… The Structure and words are bad. But you get what I say… you get it through my eyes. You cannot face me… how poor you are! You cannot face you! Who are you fighting with? What are you fighting for? You know that I know that you don’t know! And you are great in concealing everything! And I am great at keeping you uncovered.

I am sleepy! Fuck Off!

Thursday, 20 October 2011

مستند ہے میر کا فرمایا ہوا


زمانے کا دستور حقیقتاً ہی عجیب ہے!
تعجب ہے، المیہ ہے!
جن لوگوں کی بدولت دنیا میں "تحریک" رہی وہی لوگ اپنی تمام عمر ایک ہے رونا روتے رہے کہ وہ جو بولتے ہیں کوئی نہیں سمجھتا.
دنیا میں جتنی بھی تبدیلی آیئ ہے، اچھی یا بری، اس بحث میں نہیں پڑتے، مگر آیئ ہمیشہ ان لوگوں کے باعث ہے جو عام ذہن سے تھوڑا بڑھ کر تھے یا جن میں کچھ بدل دینے کی ہمّت تھی.
ہم دیکھتے ہیں، روزانہ دیکھتے ہیں. اپنی آنکھوں کے سامنے تماشہ دیکھتے ہیں، وہی جس کا ذکر غالب نے کیا تھا... ہوتا ہے شب و روز تماشا میرے آگے.
دنیا میں انقلاب آیا تو یا منفی قوّتیں کلیدی عنصر تھیں یا مثبت طاقتیں عوامل... مگر عام شخص نے اور عام ذہن اپنے لحاظ سے  وسیع ترین مطالعے اور گہرے مشاہدے کی بنا پر زبردست تبصرے کیے اور تمام عمر اپنی بہترین سوچ کے ساتھ گزاری،
بہت نے تو دنیا کو واشگاف الفاظ میں یہ بھی بتایا کہ اگر ان کا کہا نہ مانا تو وہ سب تباہ ہو جاینگے، نیست و نابود ہوجاینگے...
اور جنہوں نے مانا، یہ وہ ہے جن کو ہم نہیں جانتے.
چنگیز خان ہو یا نیوٹن، دونوں نے ایک کام کیا... تبدیلی دی... تحریک دی... دنیا آگے بڑھی. چنگیز کی بربریت ہی سہی، دنیا نے جنگ دیکھی. لاکھوں نے مظالم سہے، مرے، فنا ہوے، ان کا کوئی نام لینے والا نہیں.
لیکن چنگیز کی فوجی درجہ بندی اور فوجی نظام اور عسکری ترتیب سازی بھی کمال کی تھی. تاریخ پر نظر ڈال سکتے ہیں.
چنگیز نے تباہی دی... لیکن ان لوگوں کو، جن کو عقل تھی، عقل بھی دی. اب بےعقل کو تو اگر پیالے سے منہ میں انڈیل بھی دیا جائے تو قے کر دے... نیوٹن صاحب نے کچھ اور دیا اور اس کے بارے میں آپ ضرور جانتے ہیں.
دونوں اب نہیں ہیں... دونوں نجانے کہاں ہیں. دونوں جانے کیوں آے تھے... الگ سوال ہیں. مگر دونوں نے دنیا بدل دی.
یہ دونوں اور ان جیسے ہزاروں... لاکھوں اور ہیں... اگر نہیں ہوتے تو آج بھی ہم کسی غار کے دہانے بیٹھے کجھلی کر رہے ہوتے یا ایک دوسرے کے جویں نکال رہے ہوتے یا کہیں اکڑوں بیٹھے کسی مردہ کو سونگھ رہے ہوتے... جو بھی کرتے کم سے ہم یہ لکھ نہیں رہے ہوتے اور آپ یہ پڑھ نہیں رہے ہوتے.
زمانے کا دستور عجب ہے...
ہم روزانہ دیکھتے ہیں... بیچارے بول رہے ہوتے ہیں... بول بول کے انھیں بھوک لگ جاتی ہے اور بول بول کے ہے نیند آتی اور صبح بول کے ہے اٹھتے ہیں.... اور آپ ذرا سر تجربہ کیجئے، گھڑی پہ یں کو دو منٹ بٹھائے اور ایک بات شروع کیجئے، دو منٹ سے زیادہ سنتا ہے تو بھلا آدمی ہے، ایسی بات سنتا ہے جس میں ان کا بھلا ہے پھر بھی بھلا آدمی ہے... مروتآ سنتا ہے پھر بھی بھلا آدمی ہے، ولی ہے ... اور آپ تو ٹوکتا بھی نہیں، فرشتہ ہے!!
ہاں! ایک لطیفہ ہے کہ ایک صاحب آگے اور دوسرے پیچھے بھاگے جا رہے ہیں. کچھ لوگوں نے پیچھے بھاگنے والے کو روکا اور خیریت کا پوچھا کہ یہ آپ دونوں دوڑ کیوں رہے ہیں... مظلوم نے جواب دیا، ظلم اپنی دو غزلیں سنا چکا ہے اور میری نہیں اب سنتا.
اور مشهور لطیفہ ہے کہ شاعر اپنا سنانے کے لئے دوست سے پوچھتے ہیں، ہاں بھئ، کوئی نیا کلام ارشاد کیجیے ناں!
تو بہت سے نامور ایسے ہیں جو بولتے کم ہیں اور ان سے بہت نامور وہ ہیں جو بولتے بہت ہے کم ہیں صرف کام کی باتیں بتاتے ہیں، یہ الگ ہے کہ کام کی بات بتانے میں گھنٹے، دیں، مہینے، سال تو لگ ہے جاتے ہیں.
ہمارے ملنے ملانے کے حلقے میں ایک صاحب ہیں جن کو صرف دو چیزیں نہیں معلوم، ایک وو چڑیا کے گھونسلے میں انڈے اور دوسرا آپ اور ہم وہ...!! باقی  آپ پوچھ لیجئے، اس گھریلو ٹوٹکے سے لیکر جس کو استمعال کر کے بانجھ عورت کو کوکھ ہری کیا رنگ برنگی ہو جائے. دنیا کی خفیہ ترین قوتوں کے اس سے بھی زیادہ خفیہ راز جس میں ان کے صدیوں کے لیے کارآمد مقاصد شامل ہیں اور جن پہ وہ دولت پانی کی تارہا بھی رہے ہیں... آپ پچ لیجیے... وہ جھٹ آپ کو بتا دینگے کہ یہ معمہ کیا ہے...
ایسے بھی صاحبان سے ہمیں فیض حاصل ہوتا ہے جو بصد شکر بولتے ہیں کہ وہ خالق کی دین کے اھل نہیں تھے پرر دان دیا گیا... ان کو جب آخر میں معاملہ کچھ الجھا نظر آجاتا ہے اور جن نقطوں کو یہ صاحبان اپنے علم علیم اور عقل سلیم سے سلجھا نہیں پاتے تو آخر میں گتھی سلجھانے کے ایک بہت ہی آساں حل ان کی جیب میں ہوتا ہے... "بھیئ، اس میں یہودیوں کی سازش ہے!" یہودیوں کا ہی سہی، کسی کو تو مانتے ہیں جو ان کی عقل رسا کو مات دے جائے... تاویل یہ ایسے لوگ شیطان کے پیرو ہیں اور ان کو شیطان پڑھاتا ہے...
ہم خالق کے بہت شکرگزار کہ شیطان بھی بھلے کے لئے پیدا کیا....
زمانے کے دستور نرالا ہے... جو ان کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ کر، دنیا تج کر، ان کا، ان بچوں کے مستقبل کی خاطر جو بھی کرتے ہیں... زمانہ پہلا سوال لازمی، باقی میں سے چھ کے حساب سے مذاق تو اڑاتا ہے ہے... اور افسوس بھی نہیں ہوتا... اس سے بڑھ کر ظلم یہ کہ ان کو معلوم بھی نہیں کہ یہ اتنی حقارت سے کیوں دیکھتے ہیں... اس میں بھی بہت سے عوامل کارفرما ہو سکتے ہیں. ایک وہ جو ابو جہل اور ابو لھب کا حساب کتاب تھا، دوسرا وو جو فرعون، نمرود،شداد، ہامن کا تھا... یا وہ جو کسی کا نہیں تھا.
نیی چیز قبول کرنے میں اور پرانی چھوڑنے میں دقت ہوتی ہے.
انسانی نفسیات اور انسان خود ہمارا پسندیدہ مشغلہ ہے... اور انسان کا مطالعہ بہترین شے ہے...
ہم نے اکثر لوگوں سے ایسا کروایا ہے... معذرت، کہ دھوکہ دہی تھی پر جب بھی کسی بدیسی لوازمات کے گرویدہ کو پایا تو ضرور کہا، "ارے!! آپ اب تک یہ کر رہے ہیں!!؟ کیا کر رہے ہیں؟ ہنسیں گے آپ پہ...!"
ششدر، پریشان، آزردہ پوچھتے، کیا کریں... ہم کوئی لال نیلا پیلا کچھ بتا دیتے... اگلے دیں صاحب نوٹنکی والا مداری زیادہ لگتے! اب یوں بھی نہیں کہ ہمیں زیافہ علم تھا. یوں تھا کہ ان کو نیند نہیں آتی تھی کہ کہیں ہم نے سچ نہ کہا ہو... اور یہ سچ نہ ہو جائے! حفظ ماتقدم!
ہمارے ایک بہت ہے عزیز دوست ہیں، ایک صاحب ان کے ساتھ آتے جاتے رہتے تھے... دونوں ایک جگہ کام کرتے تھے تو ملنا ملانا دونوں کا آپس میں زیادہ تھا... ہمارے دوست جب بھی آتے وہ صاحب بھی تشریف لے آتے... خرابی ان میں یہ تھی کہ ابھی ہم بیٹھتے تھے، کہ ان کو ایک تصویر آویزاں نظر آجاتی تھی اور ساتھ ہے اس میں مصّور کی خط کھینچنے کی کمزوری بھی اور پھر فن مسووری پر ایک سیر حاصل بحث! اگلی بار تشریف لاتے تو ان کو ایک گلدان نظر آجاتا تحت اور اس سے اگلی بار ان کو دروازے پر صنع کاری درست نہیں لگتی تھی. اب ہم میزبان، مرّوت میں چپ سادھے اور ہمارا دوست منہ کھولے سنتے... ایک دن ہم نے از رہ اطمینان پوچھا کہ صاحب تو بھلا کے فنکار ہونگے... فرمایا، نہیں! یہ تو جب میں نقص نکالتا ہوں تو سرور محسوس ہوتا ہے... کوئی تو یہ کام بھی کرے...!!ہم نے کہا، جی! بالکل!!
ایک فلسفی گوانڈی ہیں. فلسفی یوں نہیں کہ فلسفہ پڑھا ہے، یوں کہ بیروزگار ہیں اور گھر پہ بیٹھے ہو گئے ہیں. ایک وقت میں روز شام کو گھنٹی بجھتی تھی... پوچھتے کون... بولتے ہم! دروازہ کھلتا. پھر رات گئے تک ارسطو کی واہیات کو درست کرنے اور افلاطون کی بے پرکیوں کو ترتیب دینے میں صاحب چست اور ہم بھی ہاں میں چست، سشت کوئی نہیں! ایک دفع ہم نے پوچھا کہ آپ کو تو ہم بھلا کے عقل والے لگتے ہونگے، تبھی تو ہمیں یوں سناتے ہیں... فرمایا... نہیں!! تم سمجھتے نہیں ہو پر ایک بات تیری بہت اچھی ہے کہ تم میں سمجھ جانے کی پیاس ہے!
ہم خود اتنے بولتے ہیں کہ دوست یار تنگ آجاتے ہیں اور ہماری باتیں ختم نہیں ہوتیں... اکثر یار تو فارغ وقت میں کترا کے نکل جاتے ہیں.
زمانہ عجب ہے... اتنے لوگ ہیں... اتنے زیادہ لوگ ہیں... کر رہے ہیں... بھگت رہے ہیں... ہم آپ کیلیے وہ کر رہے ہیں جو ہمارا نہیں ہے، آپ ہمیں دکھانے کے لیے وہ جو آپ کا نہیں ہے... اور کل ملا کے ہم اکٹھے وہ کر رہے ہیں جو آپ کا بھی نہیں ہے اور ہمارا بھی نہیں ہے! اگر ہم وہ کریں جو ہمارا ہے تو آپ کو اس لیے گوارہ نہ ہو گا کہ فلاں کو نہ ہوگا اور ہمے آپ کا کہ فلاں کو... اب ریاضی کی کتاب لینگے اور یس بدبخت فلاں کو معلوم کرینگے!
زمانہ عجب ہے... جیتنے بھی صاحبان سیاس ہیں دیکھیں تو کہتے نظر آتے ہیں کہ یہ کرینگے وہ کرینگے... ان کو زمام مملکت ہاتھ اجے تو خچر کو براق بنا دینگے... ہم مانتے ہیں. سب ہی خیر کے کام میں کولھو کے بیل ہیں جتے رہیں... تیل برابر ایگا... مگر خدانخواستہ کہیں کسی ایک صاحب کو قید ہی، علالت ہی، یا خدا نہ کرے دنیا سے اٹھ گئے... تو قسم کھاتے ہیں ہیں کہ وہ ہے آخری چشم و چراغ ہیں اور ان کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی اور گھپ اندھیرا سب کا مقدّر! بجز یہ کہ بجا فرماتے ہیں! ہم کو کونسا کون رکھتا ہے! ہاں مگر جو اپنی زبان سے بولتے ہیں... ان کو خبر ہے کہ ان کے بعد کوئی نام لیوا بھی نہ ہوگا... مگر ہمارا تو خیر ہے اپنا وقت برباد کے جا رہے ہیں... ہم کونسا کہتے ہیں کہ سوچ اور نظریہ نہیں مرتے... انسان پتھر ہو جاتا ہے... سمجھتے ہیں! یہ نہیں کہ نہیں کہ نہیں سمجھتے بس تھوڑا زیادہ سمجھتے ہیں اور اتنا ہم نہیں سمجھتے.... تبھی تو اختلاف ہے... ورنہ تو ان کی جگہ ہم ہوتے!
ہماری ایک دوست محترمہ ہیں... جن کو شروع ایک ہی اعتراض ہے... اور وہ بجا بھی ہے... ہم سے عمل نہ ہوا تبھی تو اس جدید دور جس میں مواصلات کہاں سے کہاں پہنچ گیئیں ہم ہنوز کنوارے ہے ہیں... اعترض بجا تھا اور ہے اور رہیگا... فرماتی ہیں... دنیا کو دکھانے کو ہاتھی والا نظام چلاو... اس ملعون چوپاے والا نہیں... پیٹ میں کون جھانکتا ہے... اور اتنی عربی انھیں آتی ہے کہ چڑا سکیں... الناس باالباس!
ہم نے مانا کہ شرافت کے اصول و ضوابط ہیں جو بہرطور ہونے چاہیئں... مگر بناؤ سنگھار کریں تو ناصر صاحب نے کیا فرمایا ہے!؟
زمانہ بھی عجیب ہے... ان پی ہنستا ہے جن کو ان کے بچے درسی کتب میں پڑھتے ہیں...
ہمیں معلوم ہے... تھامس ایڈیسن کون تھا، اس نے کیا کیا تھا... ہمیں یہ معلوم نہیں کہ اس کا وہ استاد کہاں گیا جو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی ماں کے پاس لایا تھا کہ وہ انھیں پھر مدرسے نہ بھیجے... یہ بھی اگر اس استاد کا ذکر ہوا تو آپ جانتے ہیں کیسے...! یا وہ لوگ جو ان پہ ہنسے تھے، ان کا مذاق اڑایا تھا!